افسانہ : تسلسلِ خیال
افسانہ نگار : شعیب خالق

رات کے اندھیرے میں قبرستان کی پُر اسرار فضا اور بھی اسرار انگیز ہونے جا رہی تھی۔ وہ باپ کی میت کے قریب سر جھکائے بیٹھا تھا اور پھر ٹھنڈی آہ بھرے بغیر آنسو پونچھتے ہوئے اُٹھا۔ گور کنوں کی طرف بڑھتے ہوئے، مٹی کے ڈھیر پر کھڑا ہو، قبر کے اندر جھانکنے لگا۔ قبر کے آس پاس پڑی چار روشن لالٹینوں کی زرد روشنی رات کے اندھیرے میں قبرستان کے منظر کو اپنے تجسس و تحیر میں سموئے ہوئے تھی۔اس کے ہاتھ میں پکڑی باپ کی پرانی ٹارچ میں روشنی وقفے وقفے سے جلتی بجھتی اور زرد گو لائی میں اِدھر اُدھر حرکت کرتے دکھائی دے رہی تھی۔
باپ نے وصیت میں موبائل ٹارچوں اور گیس والے لیمپوں کی سفید روشنی کھدائی اور تیاری کے دوران استعمال کرنے سے منع فرمایا تھا۔ بیٹے نے باپ کے داخل تک ابلاغی رسائی پا لی تھی اور وہ باپ کی ہر بات اپنی حسیات میں اتار لینے پر قادر بھی تھا۔ آخری دنوں میں تو دونوں کی کیفیت کچھ یوں تھی جیسے باپ بیٹا اور بیٹا باپ بن کر ایک دوسرے کو بانٹ رہے تھے۔ اُس کے دل اور اُس کی روح میں باپ کے ساتھ محبت و عقیدت ایسی تھی جیسے کسی مرید کو اپنے مُرشد کے ساتھ ہوتی ہے۔ بیٹا قبرستان کی پُر اسراریت میں باپ کی وصیت کے عین مطابق ایک غیر معمولی قبر کھدوا اور باپ کی پوشیدہ تدفین من و عن اپنے یقین کے حسنِ سلوک سے نبھا رہا تھا۔ تدفین کا عمل اُسے اکیلے ہی انجام دینا تھا۔ مگر غیر معمولی قبر کی کھدائی کیلئے اُس نے تین صحت مند گورکنوں کا انتخاب کر کے اُن کی مزدوری کے علاوہ رازداری کی بھی قیمت ادا کر دی تھی۔ وہ جب اپنی گاڑی میں اکیلا اور باپ کی میت پچھلی سیٹ پر لٹائے قبرستان کے اندر داخل ہوا تو وہ تینوں گورکن وعدے کے مطابق پہلے ہی سے اُدھر موجود تھے۔ کُدالوں اور بیلچوں کے علاوہ ایک پلاسٹک بیگ میں پڑا چونا اور ایک جھاڑو بھی زمین پر پڑا ہوا تھا۔ اُس نے گاڑی کی ہیڈ لائٹس قبرستان کے گیٹ پر بُجھا کر پارکنگ لائٹس کی جلتی بجھتی زرد اور چمکیلی روشنی میں گاڑی قبرستان کے کنوئیں کے قریب لا کر دو پتھروں کے قریب کھڑی کر دی۔ پارکنگ لائٹس بُجھا کر گاڑی ہی میں بیٹھے کچھ دیر سوچتا رہا۔ گورکن اپنے قدموں پر کھڑے حکم کے منتظر تھے۔
پچھلی سیٹ کی گھور میں کفن سے پھُوٹتی سفیدی میں اُسے ماں کی موت کا دھیان آیا، جس کے ساتھ باپ کی محبت پھر اپنی موت کے انتظار میں ڈھل گئی تھی مگر کچھ عرصے بعد کینسر کی تشخیص ہوتے ہی وہ انتظار موت سے باقاعدہ محبت کی صورت میں ڈھل گیا۔ بیماری کی طوالت میں پھر کئی سال کا بے قرار انتظار موت سے محبت کا ہی روپ سنوارتا گیا پھر چند ماہ پہلے ڈاکٹر نے موت کے متوقع مہینے کا بتایا۔ جو منع کرنے کے باوجود اپنے باپ کو بتا کر اُس کے انتظار کو چار چاند لگا دئیے تھے۔پھر خوشی سے سُرخ ہوتے چہرے پر کوئی سوچ آنکھوں میں بھرتے ہوئے باپ نے بیٹے کا ہاتھ چومتے ہوئے کہا ”چلو تم نے مہینہ بتا کر مجھے اُس مہینے کا دن منتخب کرنے کا اِشارہ بھی دے دیا۔” یہ کہہ کر باپ ہنس پڑا اور بیٹے نے بھی ہنستے اور اپنی آنکھوں سے آنسو پونچھتے ہوئے جواب دیا” آپ اپنے خیال کے تسلسل میں محبت کو زندگی اور موت سے بھی بلند مقام پر لے جارہے ہیں، مگر میں آپ کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا مجھے موت کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ آپ چلے گئے تو میں پھر زندہ رہ ہی نہیں سکتا۔ “
ماں کے بعد گھر میں وہ دونوں اکیلے رہ گئے تھے۔ سو اُس نے باپ کی محبت چرا لئے جانے کا کھیل بھی نہیں کھیلا اور باپ کے بارہا اصرار کے باوجود شادی سے انکاری رہا اور اپنا تمام وقت عقیدت، محبت صرف باپ کیلئے وقف کر دی۔ باپ نے بھی جان لیا کہ موت سے محبت اور اس کے انتظار کی بانٹ رہ بیٹے کے علاوہ کسی اور کے ساتھ نہیں بانٹ سکتا۔ یوں کئی سالوں نے اس بانٹ کی معرفت موت سے محبت کا رنگ آہستہ آہستہ بیٹے کے خیال پر بھی چڑھتا چلا گیا۔
قبر کی کھدائی جاری تھی اور کُدالوں کی ضربیں اور بیلچوں کی کھدی ہوتی مٹی میں شک کرتی اور پیوست ہوتی رگڑ کے دھیمے شور کے علاوہ گورکنوں کی دھیمی سرگوشیاں بھی قبرستان کے رازدارانہ فضا اور خاموشی کے آہنگ ہی کا حصہ سنائی دے رہی تھیں۔ قبرستان کے وسط میں بوڑھے برگد کے درخت نے آدھی سے زیادہ قبروں کو اپنے سائے تلے لے رکھا تھا۔ آبائی قبرستان کی چار دیواری اندر ایک چھوٹی سی برائے نام مسجد اور ایک کونے میں کشادہ منہ والا خشک کنواں بھی تھا جس کے قریب ہی وصیت میں لکھی قبر کی جگہ کو منتخب کیا گیا۔ بیٹا مطمئن دھیان اور خاموشی کا گمان اپنے سینے میں لئے باپ کی میت کی طرف پلٹااور گاڑی کے پچھلے دونوں دروازے کھول دئیے پھر خود آ کر ایک دروازے کے ساتھ دو پتھروں میں سے ایک پر بیٹھ گیا۔ اُس نے باپ کی وصیت ایک ہاتھ میں اور دوسرے ہاتھ میں پکڑی ٹارچ جلائی اور مسکراتے ہوئے ایک بار پھر باپ کی لکھی آخری تحریر پڑھنے لگا۔
”بیٹا گزشتہ کینسر زدہ سالوں کے دوران میں نے تمہارے ساتھ اپنا داخل بانٹا ہے جو میرا اصل سرمایہ ہے۔ اس کے علاوہ میری تحریر شدہ کتابیں بھی تمہارا داخلی سرمایہ ہیں جبکہ گاؤں کی زمین ، گھر اور کچھ بینک بیلنس بھی خارج میں وراثت کی صورت تم تک منتقل ہو جائے گا مگر اب موت میرے سامنے کھڑی ہے اور میں تمہاری یادداشت پر بھروسہ رکھنے کے باوجود تمہارے لئے وصیت تحریری طور پر چھوڑ کر جا رہا ہوں۔ میرے پیارے بیٹے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیکھنا انسانی ہمت و شعور کی آخری فتح ہے اور میں مرنے کے بعد ایک فتح مند سرشاری میں ڈوبے احساس کے ساتھ کھیلنا چاہتا ہوں سو یہ وصیت اُس آخری کھیل ہی کا شاخسانہ سمجھو اور یوں جانو جیسے میرا جسمانی شعور موت کے بعد ایک خیال کا تسلسل لئے میرے سامنے موت کے ساتھ کھڑا ہے بالکل ساتھ کاندھے سے کاندھا ملائے۔ جہاں میں موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیکھ رہا ہوں وہیں اس کے ساتھ کھڑا خیال میری آنکھوں میں اپنی مسکان بھری آنکھیں ڈالے ہوئے ہے۔ ایک ہی وقت میں حقیقت موت اور زندگی خیال بن کر میری نگاہوں سے ٹکرا رہی ہے اور بیٹا، حقیقت بھی تو ایک خیال ہی ہے وہ خیال جس کی پختگی اُس خیال کا یقین ہے۔ اب مختلف خیال اور اُن کا یقین زمین پر انسانی زندگی کے ابتدائی دیومالائی عہد سے گزرتا اور آگے آنے والے زمانوں میں بھی روزمرہ کا چلن لئے آج تک چلتا چلا آ رہا ہے۔ مگر حقیقت کا علم اور اُس کا بیان ابھی تک موت کے پردے پیچھے چھُپا بیٹھا ہے۔ میں وہ پردہ چاک کرنا چاہتا ہوں“۔
دور کسی کُتے کی بھونک سے وہ چونک گیا اور سکوت کی ٹوٹ میں نظریں اُٹھا گورکنوں کی جانب دیکھا اور پھر نظریں گاڑی میں پڑی میت پر ڈالتے ہوئے اُٹھ کر قبر سے نکلی مٹی کے ڈھیر پر چڑھ کھدائی کے عمل کو دیکھنے لگا۔ آٹھ فٹ چوڑائی اور دس فٹ لمبائی کا دھیان وہ اطمینان میں ڈھال واپس مٹی کے مختصر پہاڑ سے نیچے اُترا پھر پتھر پر آن بیٹھا اور اندھیرے میں مسکراتے ہوئے باپ کی پرانی ٹارچ کو محبت سے کچھ دیر دیکھتا رہا اور پھر اسے آن کر کے وصیت ساتھ پڑے پتھر سے اُٹھائی اور پڑھنے لگا۔
”بیٹا میں جان گیا ہوں موت کیا ہے؟ موت محض ایک زندہ زندگی سے حاصل شدہ جسم کے تصور کا خیالی تسلسل ہے۔ وگرنہ ارتقائی بوسیدگی جسم کا مقدر بھی ہے۔ یہی مقدر اپنی فنا سے ایک اور مقدر کشیدتا ہے اور یوں مقدر در مقدر کی یہ کشید ایک خود رو خیال کی ماند ہر زندہ زندگی کو خود میں پروئے ہوئے ہے۔ میرے پیارے بیٹے، تمہارے صدقے جاؤں وصیت کا اصل مرحلہ تو قبر کے اندر چھوٹی قبر کا سلسلہ ہے اور تم وہ سب جان چکے ہو مگر موت چونکہ قبر سے باہر آ چکی ہو گی تو اس لئے تمہیں بتاتا چلوں میرے مردہ جسم کی تجہیز و تدفین کیسے بجا لائی اور اُن میں پیش آنے والی نا پسندیدہ باتیں جو مرنے کے بعد میرے لئے وبالِ روح بن سکتی ہیں۔ وہ باتیں تمہارے علم میں لانا چاہتا ہوں۔ میرے ہاتھوں اور پاؤں کے ناخن تم نے کاٹ لئے ہیں۔ جسم کے پوشیدہ و ناپسندیدہ بال بھی تم نے ہی شیو کر ڈالے۔ چند دن پہلے تم ایک نائی گھر بلا کر میری داڑھی اور سر کے بال بھی کٹوا اور مجھے آئینہ بھی دکھا چکے ہو۔ اور سنو منہ میں نقلی دانتوں کو بالکل نہیں اُتارنا کیونکہ اُن میں چھپے زندہ زندگی کے پکوان ذائقے موت کے بعد بھی میری زبان تک وہ منتقل کرتے رہیں گے۔ کفن سفید لٹھے سے اگر بنایا گیا تو اُس کی اوپری سطح پر نیم کھردراہٹ میرے جسم کی جلد کو مَس کرتے ہوئے مجھے ناگوار گزرے گی۔ سو میراکفن بے شک سفید ہی سہی مگر وہ ریشمی کپڑے سے بنوانا تاکہ میرے جسم کی جلد ریشم کی لپٹ لئے قبر میں اُتاری جائے۔ کچھ عرصے سے تم ہی میرے زندہ جسم کو غُسل دیتے آ رہے ہو اور آخری غسل جو میرے مردہ جسم کا پہلا غسل ہو گا وہ بھی تم ہی انجام دو گے۔ ہاں تمہیں بتایا تھا، قدیم وقتوں میں مرتے ہوئے آدمی کی روح جسم سے باہر نکلنے کے تمام راستے بند کر دئیے جاتے تھے۔ وہی چلن ابھی تک مردے کے کانوں اور ناک میں روئی ٹھونسنے کا خلیاتی بہکاوا لئے چلا آ رہا ہے۔ میرے کان اور ناک کے نتھنوں میں روئی ٹھونسنے کی ہر گزر ضرورت نہیں۔ اس کے علاوہ مشکِ کافور مجھے قطعی پسند نہیں، اُسے میرے نزدیک بھی مت لانا۔ قبر پر عرقِ گلاب کے چھڑکاؤ، اگر بتیاں جلانے اور پھولوں کی چادر قبر کو اوڑھانے کی بھی قطعاً ضرورت نہیں۔ یہ سب خارجی دنیا کا پہناوا ہیں میرا خیال میرا داخلی جہان ہے۔ بیٹا وہ مرنے والے کے پاؤں کے دونوں انگوتھے جوڑ کر جو گرہ لگائی جاتی ہے وہ میں پاؤں کی آزادی کو قید جانتا ہوں کیونکہ پاؤں کے دونوں انگوٹھوں پر لگی گرہ میرے خیال کے تسلسل کی چال میں رکاوٹ ثابت ہو سکتی ہے وہ گرہ نہیں لگانی“۔

: گورکن کی آواز نے اُسے اپنی طرف بلایا اور وہ وصیت پتھر پر رکھ قبر کی طرف آیا۔ دس فٹ لمبا آٹھ فٹ چوڑا اور دو فٹ گہرا گڑھا دیکھ وہ مسکرایا اور آنکھوں کے آنسوؤں نے ایک بار پھر منظر دھندلایا۔ آنکھیں پونچھ ٹارچ جلا کر چاروں کونے غور سے دیکھتے اور گورکنوں کی مہارت، محنت اور کام کی صفائی دیکھ اس کے چہرے پر تشکرانہ مسکراہٹ دوڑ گئی۔ اُس نے جیب میں پڑی اِنچ ٹیپ نکالی اور ایک گورکن مستعد انداز چونے کا لفافہ اُٹھائے گڑھے میں اُس کا منتظر تھا۔ اُس نے قبر کے اندر چھوٹی قبر کا سائز میت میں لکھے کے مطابق پانچ فٹ چوڑائی اور سات فٹ لمبائی کے نشان لکیر دئیے اور پھر کُدالیں اور بیلچے چار فٹ گہرائی کی کھدائی میں مصروف ہو گئے۔ وہ کچھ دیر اُدھر ہی کھڑے ہو کر قبر کی اندرونی قبر کو کھُدتا ہوا دیکھتا رہا۔ اس دوران اُس نے سوچا وہ اپنی قبر بھی ایسی ہی کشادہ بنانے کی وصیت لکھے گا۔ مگر پھر ناگواری کے ساتھ اس دھیان کو جھٹک دیا کہ وہ خود اپنا بیٹا کیسے بن سکتا ہے۔
دُکھ بھرے خیال کا بوجھ دل میں لئے وہ واپس پلٹا اور پتھر پر آ بیٹھا۔ اُس کا دم گھُٹ رہا تھا اور وہ سینہ پھاڑ کے رونا چاہتا تھا۔ لیکن رِقعت رِفعت نہیں چھو پا رہی تھی اور سِسکی کے ابتدائی جھٹکے سے بھی گریزاں تھی۔ سینے میں بھرے غبار کا رُخ بدلنے کیلئے اُس نے پھر آنسو پونچھ ٹارچ جلائی اور وصیت اُٹھا اُسے پہلے چوما اور پھر کاغذ کو سونگھا پھر چوما اور پھر آنکھوں کا پانی ہاتھ پھیر صاف کیا اور وصیت پڑھنے میں مسکراہٹ کے ساتھ شامل ہو گیا۔
”میرے پیارے بیٹے تدفین کی پوشیدگی کا کھیل اس لئے بھی ضروری ہے کہ میرے تسلسلِ خیال کو کسی کی نظر نہ لگ جائے۔ میرے خیال کا تعلق زمین کے اُوپر والی سطح پر تدفین کا عامیانہ کھیل نہیں جبکہ میری آخری خواہش ہی وہ کھیل ہے جو قبر کے اندر چھوٹی قبر کا منہ ڈھانپ دئیے جانے کے بعد شروع ہو گا۔ زمین کی اوپری سطح سے بھی بہت اوپر کا کھیل اور ہاں تم بتا چکے ہو چھوٹی قبر کا کشادہ منہ بند کرنے کیلئے اُس کے سائز کے مطابق سرئیے، سیمنٹ اور بجری وغیرہ کے بلاکس کا آرڈر تم دے چکے ہو۔ باقی اشیاء جو تم نے میری چھوٹی قبر میں رکھنی ہیں وہ بھی تم میرے طے شدہ دن سے پہلے پہلے لے چکے ہو گے۔ تو بس، پھر میں اور میرا خیال سکون و اطمینان لئے قبر میں اولین مٹی گرائے جانے کی پہلی دھمک سے ہی لُطف اُٹھائے اُٹھ بیٹھیں گے۔ قبر کی کشادگی ویسی تو نہیں ہو گی جہاں ٹہلتے ہوئے سوچنے کا لُطف لیا جا سکے۔ البتہ اُٹھ کر کمر سیدھی کر کے بیٹھنا یا ٹانگیں دائیں بائیں پھیلانے کے ساتھ ہاتھ بھی آزادی سے اپنی جگہ پائیں گے۔ چھوٹی قبر کی گہرائی چار فٹ میں نے سوچی ہے اگر کافی رہے گی تو ٹھیک ورنہ بیٹا تم خود میری جگہ سوچ اور دیکھ لینا۔ میرا اصل کھیل تو وہیں کا ہے۔ بے ہوا اندھیرے کی قدرے نیم گرم ہوار میں ایک دفن شدہ لاش کے خیال کا کھیل جیسے زندہ زندگی کو اس کے تجربے کی گزر اور برت میں میں نے دیکھا اور لکھا اب ایسے ہی موت کے بعد کی زندگی کے تجربے اور برت کی گزر بھی مرنے کے بعد قبر کے اندر ہی دیکھوں اور لکھوں گا۔ درخت کی چھال سے بنے کاغذ کے چار پانچ دستے، بال پوائنٹ کا ایک عدد ڈبہ اور وہ میری پرانی بیٹری بھی ضرور قبر میں رکھنا اور اس کے ساتھ درجن بھر سیل بھی میرے سرہانے رکھ دینا۔ احتیاطاً بیٹری کے چند بلب بھی چھوڑ جانا تا کہ بلب ختم یا خراب ہو جائے تو میرے خیال کا کوئی حرج نہ ہو“۔
اُس نے باپ کی وصیت ایک بار پھر پتھر پر واپس رکھی اور دل پر پتھر رکھ ٹھنڈی آہ بھرتے اور گردن کو خم دئیے ہوئے ایک طرف پڑے تھیلے کی طرف دیکھا۔ پھر جلتی ٹارچ کی روشنی لمحہ بھر کیلئے آنسوؤں بھری آنکھوں کی جانب کرتے ہوئے اُٹھا اور مسکراتے ہوئے قبر کی جانب چل پڑا۔ اُس نے ڈھیر پر کھڑے ہو کر فتح مندی کے تاثر کے ساتھ قبر کے اندر چھوٹی قبر کو دیکھا تو اس کے اندر باپ کے لفظ بولنے لگے ”میرا اصل کھیل تو قبر کے اندر چھوٹی قبر کا منہ ڈھانپ دئیے جانے کے بعد شروع ہو گا“۔ اس کے سینے اندر کسی ہوک کی لرزش اُبھری جسے اُس نے سرد آہ کے سپرد کر دیا۔باپ کی موت کا دُکھ اس کے سینے میں کچھ اس طرح ٹھہر گیا تھا جو اُس کی آنکھیں تو بھگو رہا تھا مگر دُکھ کی لرزاہٹ حسیاتی سطح پر رقعت کے ابتدائی احساس کو بھی چھو نہیں پا رہی تھی۔ آنکھوں میں آنسو اور چہرہ مسکرا رہا تھا۔ اُس نے سوچا، باپ کی ڈوب میں وہ بھی اس کھیل کا حصہ بن جائے اور قبر کی کشادگی باپ کے ساتھ اُسے بھی زندہ دفناہٹ میں اُڑس لے۔ بیٹے نے باپ سے کہا بھی تھا۔ میں آپ کی قبر میں موبائل فون اور پاور بینک بھی فُل چارج کر کے رکھ دوں گا یوں آپ کو کاغذ پر لکھنے کی بجائے فون پر لکھتے وقت اندھیرا حائل نہیں ہو گا مگر باپ نے سختی سے منع کرتے ہوئے فرمایا تھا۔
”دیکھو بیٹا موت زندگی سے بھی قدیم ہے۔ زمین کے رہنے والے انسانوں نے موت ہی کے وسیلے سے زندگی کو جانا ہے۔ پھر ہمیشہ زندہ رہنے کی انسانی خواہش نے ہی موت کو چکماء دیا اور مرنے کے بعد بھی زندگی کے تسلسل ِ خیال کو گھڑ لیا۔ میری موت بھی در اصل اُس قدیم عہد کے خیال کی ڈوب لئے ہوئے ہے۔ میں قبر کے اندر سفید روشنی کی جھلک بھی نہیں دیکھنا چاہتا۔ موم بتی، لالٹین، مشعل یا پھر میری بیٹری کی زرد روشنی اور بس، جدید زمانے کی کوئی بھی ڈیجیٹل نشانی اور تیز روشنائی قبر کے اندر ہر گز ہر گز نہیں، میری ہر روک کو خاطر میں رکھنا تا کہ میں اپنے خیال کے ساتھ چل سکوں۔ دیکھو بیٹا میں جانتا ہوں، زمین کے اوپر انسان نے ساری زندہ زندگی تضادات کے عدم تحفظ میں گم رہنے کے باعث ہی موت کے بعد کسی بھی تضاد سے عاری زندگی کاخیال و خواب بنایا تضاد ہی زندگی کے حسن کو بڑھاوا دیتا ہے مگر موت کے بعد کی زندگی کا خیال انسانوں نے تضاد نکال اسے یکسانیت کے خشک بے کیف خیال میں پرو لیا۔ تضاد زندگی کے حسن کو بڑھاوا دیتا ہے اور میں بعد از مرگ اپنے خیال میں تضاد بھی کھوجنا چاہتا ہوں“۔
اُس نے وصیت رکھی اور ٹارچ بُجھا کر اندھیرے میں جھانکنے لگا۔ پھر یکدم ٹارچ دوبارہ آن کر کے پچھلی سیٹ پر پڑی باپ کی میت روشن کی اور ریشمی سفید کفن اسے جگمگا تا دکھائی دیا۔ اُس نے سینے میں دُکھ کے بہاؤ کو روکے رکھا کیونکہ باپ نے منع فرمایا تھا ”تدفین کی آخری ڈھانپ مکمل ہونے سے پہلے پہلے نہیں رونا، بس آنکھیں روتی رہیں“۔ اُس نے آنکھوں کی دھندلاہٹ ہاتھ پھیر صاف کی اور قبر کی طرف چل پڑا مٹی کا اُبھار عبور کیا اور اوپر والی قبر میں اُتر آیا۔ ٹارچ جلا کر دیکھا چھوٹی قبر سے نکلی مٹی اوپر والی قبر سے بھی باہر پھینک دی گئی تھی۔ اُس نے ڈبڈباتی آنکھوں کے ساتھ مسکراتے ہوئے قریب کھڑے ایک گورکن کی طرف دیکھا اور اس کے کاندھے پر شاباش بھی تھپتھپائی۔ پھر ٹارچ بُجھا کر پکڑے رکھی مگر دوسرے ہاتھ میں اُس گورکن کے ہاتھ سے لالٹین لے کر چھوٹی قبر کے کنارے بیٹھ گیا۔ لالٹین والا ہاتھ قبر کے اندر لٹکا کر باپ کی آخری آرام گاہ باپ ہی کی مسکراتی نظروں سے دیکھنے لگا۔ پھر آنکھوں کی دھندلاہٹ صاف کر کے گورکن سے قبر کے اندر اچھی طرح جھاڑو پھیرنے کو کہا کیونکہ یہ بھی وصیت ہی کا حصہ تھا۔ تینوں گورکن اس کے ہر حکم کو مستعدی کے ساتھ بجا لا رہے تھے۔ حتمی رخصتی اور تدفین تک باپ کا حکم سینے کا بوجھ بنا ہوا تھا۔ جس کے نیچے اس کے تمام جذبات بے اظہاری اور حسیات سے عاری داب لئے ہوئے تھے۔ وہ اُٹھ کھڑا ہوا اور لالٹین چھوٹی قبر کے کنارے رکھی تا کہ گورکن اچھی طرح جھاڑو پھیر لے۔ جاتے جاتے سامنے دیکھا چھوٹی قبر کا منہ بند کرنے کیلئے بلاکس بھی گورکن بڑی قبر کے کناروں پر رکھ چکے تھے۔وہ گاڑی کی طرف جا رہا تھا اور ایک گورکن نے میت لانے کو کہا۔
اس نے جاتے جاتے اندھیرے میں ہاتھ اُٹھا کر انہیں وہیں رُکنے کو کہا۔ کیونکہ باپ نے کہا تھا۔ ”بیٹا میری میت کا وزن ایسا ہر گز نہیں کہ تم اکیلے نہ اُٹھا سکو، کسی اور کاہاتھ بھی میرے کفن کو نہیں چھونا چاہئے۔ مجھے صرف تمہارے ہاتھوں کا لمس اور تمہارے زندہ جسم کی خوشبو چاہئے اور بس“۔ اس نے قریب پڑا تھیلا گاڑی کے بانٹ پر رکھا اور ٹارچ جلا کر دانتوں میں پھنسائی۔ پھر گاڑی کی پچھلی سیٹ سے باپ کی میت بانہوں پر اُٹھائی اور بانٹ پر پڑے تھیلے کو ایک ہاتھ نزدیک لے جا کر انگلیوں سے اُڑس لیا۔ ریشمی کفن کی پھسلاہٹ کو بھی اس نے بازوؤں کی گرفت میں دبائے رکھا اور بڑی قبر سے چھوٹی قبر کے اندر بھی قدرے مشکل سے مگر اُتر آیا۔ چاروں لالٹینیں چھوٹی قبر کے چاروں کونوں پر رکھ دی گئی تھیں اور اُس نے زرد روشنی میں ڈوبی قبر کے اندر باپ کو آہستگی اور محبت سے لٹا دیا۔ تھیلے میں سے کاغذ، بال پوائنٹ پئن اور بیٹری کے ساتھ سیل والا ڈبہ نکال باپ کے سرہانے رکھ دیا۔ پھر جیب سے چند چھوٹے چھوٹے بلب بیٹری کیلئے جو باپ نے کہے تھے وہ بھی اس نے باقی چیزوں کے ساتھ ہی رکھ دئیے۔ کچھ دیر اُدھر ہی سر جھکائے بیٹھا رہا۔ گورکن اوپر کھڑے چھوٹی قبر کے اندر زرد روشنی میں یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ مگر بیٹے کے اندر باپ جو بول رہا تھا اس کی آواز وہ گورکن نہیں سن سکتے تھے۔
”میرے پیارے بیٹے، موت کا پردہ ایک چھلانگ کے بعد اُٹھ جاتا ہے مگر اُس اُٹھے ہوئے پردے کے پیچھے مرنے کے بعد کی کہانی سے پردہ اُٹھانے اور زندہ زندگی کو بتانے کبھی کوئی واپس نہیں آیا اور جانتا ہوں میں بھی نہیں آ سکوں گا۔ مگر میں نے زندہ زندگی ہی میں یہ پردہ دنیا سے اُٹھتے دیکھا اور دُنیا کیلئے لکھا بھی۔ اب قبر کے اندر جو میں نے دیکھنا اور لکھنا ہے وہ صرف میرے لئے ہے۔ آخری تحریر جس کا قاری بھی میں اکیلا ہی ہوں گا۔ بس قبر میں ریشمی کفن میں لیٹے میرے جسم کی کمر کے نیچے کوئی چھوٹے اور باریک کنکر نہ رہ جائیں جو مجھے چبھتے رہیں، خیال رکھنا“۔
بیٹے نے جب فرش پر ہاتھوں کو پھیرا تو اُس کے اندر ٹھاٹھیں مارتا سمندر سینے میں اُگلاؤ مانگ رہا تھا مگر وہ سمندر کو ٹھہراؤ میں ڈھال اور باپ کے خیال کی ڈوب میں ایک گہری ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے قبر سے باہر نکل آیا۔
تین گورکنوں کے ساتھ اُس نے بھی اپنے نڈھال جذبے میں جان ڈالتے ہوئے قبر کا مُنہ ڈھانپنے والے قدرے بھاری بلاکس اُٹھا کر پاؤں کی جانب سے رکھنے شروع کئے۔ اس دوران سمندر بدستور اس کے سینے اندر پچکولے کھاتے ہوئے مدو جزر لئے ڈول رہا تھا مگر جب آخری بلاک رکھا گیا تو سمندر پھٹ پڑا اور اس کے شور نے قبرستان کو جیسے جگا ڈالا۔ دو گورکنوں نے گھبراہٹ کے ساتھ بیٹھے اور دھاڑیں مارتے بیٹے کی بغلوں میں ہاتھ ڈال اُسے اُٹھا لیا اور مٹی کے پہاڑ سے اُتار گاڑی کے پاس پڑے پتھر پر لا کر بٹھا دیا۔ بیٹے کی سسکیاں، ہچکیوں میں ڈھل کر اُس کی سانس بار بار روک رہی تھیں۔ دو میں سے ایک گورکن نے مُکا بنا ہوا میں لہرایا تاکہ اس کی کمر پر گردن سے کچھ نیچے زور سے مارے تا کہ اس کی سانس بحال ہو۔ مگر تیسرے نے اندھیرے ہی میں غصے سے آنکھیں پھاڑتے ہوئے اس کا مکا ہوا ہی میں روک لیا۔ پھر ایک برق رو لمحے میں صورتِ حال کو بھانپتے ہوئے باقی دو بھی تیسرے کے خیال میں ڈھل گئے۔ قبر کے صرف بلاکس دوبارہ اُٹھائے گئے اور گورکن بیٹے کی جیب سے بٹوہ نکال ہاتھوں کی دو انگوٹھیاں اور کلائی پر بندھی قیمتی گھڑی بھی اُتار چکے تھے۔ پھر دوہری پوشیدہ تدفین سے فارغ، تین زندہ زندگیاں، گاڑی بھی لے کر پو پھٹنے سے پہلے پہلے قبرستان سے باہر نکل گئیں۔