: ارشاد عرشی ملک

لفظوں کا کیجئے نہ کبھی وار کھینچ کر

لے جائے گا سوال،سرِ دار کھینچ کر

اب اختلافِ رائے کا فیشن نہیں رہا

پھرتے ہیں لوگ،دھونس کی تلوار کھینچ کر

خوں رنگ ہو گیا ہے،پہ اب تک نہیں جُھکا

اِک اور سنگ ،سر پہ مرے مار کھینچ کر

پٹخے گا کل اسی پہ تاسف سے اپنا سر

جو خوش ہے ،آج صحن میں دیوار کھینچ کر

سودا نہیں تھا سر میں ،اِسی واسطے تھکے

بوری بدن کی لوگ لگاتار کھینچ کر

آسان قافیہ تھا،پہ مشکل ردیف تھی

عرؔشی نے کہہ لئے مگر اشعار کھینچ کر