:منظر نقوی غزل

کچھ بتاو تو سہی اب کے تماشا کیا ہے

ہونٹ پر تالے لگے سب کے تماشا کیا ہے

دل کے اک موڑ پہ رہتا ہے تمنا کا ہجوم

جانے والے تو گئے کب کے تماشا کیا ہے

ظلم ڈھاو یا بنا ڈالو محبت کا  سفیر

ہم نہیں رہتے کہیں دب کے تماشا کیا ہے

جس کی خاموشی سے نکلا ہے سحر کا سورج

ہم مسافر ہیں اسی شب کے تماشا کیا ہے

رنگ مدھم ہیں مگر پیار کی خوشبو نہ گئی

پھول تازہ ہیں تری چھب کے تماشا کیا ہے

درد کے ساز پہ ہم نے بھی غزل خوانی کی

گیت لکھے ہیں ترے لب کے تماشا کیا ہے

تم تو دنیا ہو  بدلنا  ہے وطیرہ تیرا

ہم کہاں بندے تیرے ڈھب کے تماشا کیا ہے

صرف تم ہی تو بلندی پہ نہیں ہو ، تارو

ہم بھی منظر ہیں اسی رب کے تماشا کیا ہے